Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 455|Reply: 0

ذاتی مفاد کیلئے دفاعی اداروں پر حملے کیے گئے: عطاء اللّٰہ تارڑ

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
194008
Post time 2025-12-14 01:12:27 | Show all posts |Read mode
  
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ—فائل فوٹو

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں ذاتی مفاد کے لیے دفاعی اداروں پر حملے کیے گئے۔

لاہور میں تقریب سے خطاب میں عطاء تارڑ نے کہا کہ نئی نسل کے ذہنوں میں سازش کے تحت نواز شریف سے متعلق زہر بھرا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ذاتی مفاد کے لیے دفاعی اداروں پر حملے کیے گئے، تبدیلی کا نعرہ لگا کر ملک میں تباہی لائی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے سوا کسی سیاسی جماعت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو امداد روکنے کے لیے خط نہیں لکھا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ملک کی سیاست میں کسی نے اس خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ معیشت تباہ ہو جائے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ملک سے لوگ باہر جائیں تو اس کے خلاف نعرے لگانے کا کہا گیا ہو۔

عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نفرت، تقسیم اور کردار کشی کی سیاست کو فروغ دیا اور 12 سال میں خیبر پختون خوا کو تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک جو انڈسٹریاں لگی ہیں ان پر نواز شریف کا نام ہے، ن لیگی صدر نے خدمت کی سیاست کی، آج عالمی ادارے بھی بات کر رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی ترقی کے ہر منصوبے پر نواز شریف کے نام کی تختی لگی ہے، ملک میں جنگ کا خطرہ ہو تو اسی موٹر وے پر جہاز اتارے جاتے ہیں۔

عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا، وزیرِ اعظم کی قیادت میں ملکی معیشت کو استحکام ملا، ن لیگ کا نصب العین عوام کی خدمت ہے۔  

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے کہا کہ میں میثاقِ معیشت کرنا چاہتا ہوں، ملک میں جھوٹے انصاف اور تبدیلی کا نعرہ لگا کر تباہی کی گئی، نواز شریف نے ملک میں رواداری کی سیاست کو پروان چڑھایا۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 08:28 GMT+5 , Processed in 0.045788 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list