Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 882|Reply: 0

ایشیز سیریز میں شکست، انگلینڈ کے سابق کپتان اپنی ٹیم پر پھٹ پڑے

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
193853
Post time 7 day(s) ago | Show all posts |Read mode
  —فائل فوٹو

ایشیز سیریز میں آسٹریلیا سے 4-1 سے شکست پر انگلینڈ کے سابق کپتان جیفری بائیکاٹ اپنی ٹیم پر پھٹ پڑے۔

جیفری بائیکاٹ نے کہا ہے کہ انگلینڈ ٹیم اس وقت تک تبدیل نہیں ہوگی جب تک مغرور رجیم ختم نہیں ہو گا، برینڈ میکلم، راب کی اور بین اسٹوکس نے تین برسوں میں جھوٹ بیچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تینوں کی رجیم نے انگلینڈ کرکٹ لورز کو مایوس کیا ہے، برینڈن میکلم اور راب کی نے ہمیشہ یہی کہا کہ وہ ایشیز کی تیاری کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ایشیز سیریز میں غلطیوں پر غلطیاں کی گئیں، وہ 4-1 سے ہارنے کے حقدار تھے، برینڈ میکلم کی فلاسفی یہی ہے اپنے انداز میں چلو دنیا کی پرواہ کیے بغیر کھیلو۔   
ایشیز سیریز کے آخری ٹیسٹ میں بھی آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ہرادیا

آسٹریلیا نے سڈنی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں 5 وکٹوں سے فتح حاصل کر لی۔   

انگلینڈ کے سابق کپتان نے کہا کہ کھلاڑیوں کو کہا جاتا ہے جاؤ اور خود کا اظہار کرو، آؤٹ ہو جاؤ نوپرابلم، ان سے کوئی جان نہیں چھڑاتا، کوئی کسی کو ڈراپ نہیں کرتا، کوئی احتساب نہیں ہوتا، اپنی مرضی کی چیزیں کرنے کے لیے فری لائسنس دیا گیا ہے۔

جیفری بائیکاٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس باصلاحیت کرکٹرز ہیں لیکن ان کی اسکلز کو نہیں نکھارا گیا، تین عقل مند افراد بتاتے رہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ آسٹریلیا میں ایشیز جیتنا کتنا اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا میں جیتنے والے تمام سابق کرکٹرز بتاتے رہے ہیں کہ وہ غلط کر رہے ہیں، یہ تین عقل مند افراد سمجھتے رہے ہیں کہ وہ بہتر جانتے ہیں، ان تینوں نے آسٹریلیا میں کبھی سیریز نہیں جیتی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق کرکٹرز کو ماضی کا حصہ قرار دے کر ہمارے کپتان نے خود کو شرمندہ اور سابق کھلاڑیوں کو بے عزت کیا ہے، یہ کبھی اپنی نوکریاں کھونا نہیں چاہیں گے کیونکہ انہیں بہت معاوضہ ملتا ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-15 18:07 GMT+5 , Processed in 0.046300 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list