فرانسیسی صدر میکرون کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا بھی مذاق اُڑا دیا۔
امریکی صدر نے بھارتی وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے اپنی اور مودی کی ایک ملاقات کا احوال بیان کر دیا۔
ہاؤس جی او پی (گرینڈ اولڈ پارٹی) ارکان کی ری ٹریٹ سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے مودی سے ہونے والی گفتگو دہراتے ہوئے ان کا مذاق اُڑایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ مودی نے مجھ سے ملاقات کی درخواست کی تھی، اس ملاقات میں بھارت کی جانب سے امریکا سے 68 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ بھی زیرِ بحث آیا، جس کےلیے بھارت نے 5 سال انتظار کیا تھا۔
ٹرمپ نے ملاقات کا حوالہ بتاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیرِ اعظم مودی مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ ’سر، کیا میں آپ سے ملاقات کر سکتا ہوں؟‘، جس پر میں نے کہا کہ ’ہاں‘۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ میرے اُن کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں، لیکن وہ مجھ سے زیادہ خوش نہیں ہیں کیونکہ روس سے تیل خریدنے کے باعث اب وہ بھاری ٹیرف ادا کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا ٹیرف کی بدولت امیر ہو رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سب کے سامنے فرانسیسی صدر کا مذاق اڑادیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریر میں طنزیہ انداز میں بتایا کہ میں نے میکرون سے کہا کہ اگر تم نے پیر تک ہماری تمام شرائط نہ مانیں تو میں فرانس سے آنے والی تمام مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف لگا دوں گا۔
واضح رہے کہ امریکا نے روسی تیل کی خریداری کے باعث بھارت پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی دو بڑی جمہوری اور اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سے قبل بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے سبب 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا گیا تھا، جو پہلے سے عائد 25 فیصد محصولات کے ساتھ مل کر مجموعی طور پر 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
ان بھاری محصولات کے نتیجے میں بھارت سے امریکا برآمد ہونے والی اشیاء، جن میں ملبوسات، قیمتی پتھر اور زیورات، جوتے، کھیلوں کا سامان، فرنیچر اور کیمیکلز شامل ہیں، شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ ٹیرف امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے بلند ترین محصولات میں شمار ہوتے ہیں، جو برازیل اور چین پر عائد محصولات کے برابر ہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران عندیہ دیا کہ وہ پہلے سے نافذ ٹیرف میں مزید اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔