Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 563|Reply: 0

نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز معاملہ، وزیراعظم کی اقلیتی رائے کو ترجیح، اندرونی کہانی سامنے آگئی

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
206060
Post time 2026-2-12 17:42:47 | Show all posts |Read mode
  فوٹو: فائل

نیشنل الیکٹرک پاور اتھارٹی (نیپرا) کی نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔  

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے نیپرا کی نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ بلنگ کی حمایت کی، اویس لغاری کی جانب سے بھی نیٹ بلنگ کی حمایت کی گئی۔

وفاقی وزیر احد چیمہ، مشیر نجکاری محمد علی، چیئرمین ایف بی آر نے بھی نیٹ بلنگ کی حمایت کی، نیٹ بلنگ کا دفاع کرنے والوں نے نیٹ میٹرنگ کو دیگر صارفین پر مالی بوجھ قرار دیا۔   
27 روپے پر نیٹ میٹرنگ کو دینا کیا باقی صارفین کیساتھ انصاف ہے؟ اویس لغاری

نیشنل گرڈ پر 3 کروڑ 35 لاکھ بجلی صارفین ہیں، ان میں سے 4 لاکھ 66 ہزار نیٹ میٹرنگ پر ہیں: وفاقی وزیر بجلی و توانائی   

ذرائع نے بتایا کہ بلال اظہر کیانی کی جانب سے پہلے سے موجود سولر صارفین کیلئے نیٹ بلنگ کی مخالفت کی گئی ہے۔  

اجلاس کے دوران بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق پہلے سے موجود معاہدوں کی خلاف ورزی نہ کی جائے، معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ایسے صارفین خود بخود نیٹ میٹرنگ سے نکل جائیں گے۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بھی پرانے صارفین کےلیے نیٹ بلنگ کی مخالفت کی۔   
وزیرِ اعظم نے نیپرا کی سولر سے متعلق نئی ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس لے لیا

وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ پاور ڈویژن اس سے متعلق جامع لائحہ عمل تشکیل دے۔   

اجلاس کے دوران فیصل واوڈا نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ معاہدے کی خلاف ورزی سے حکومت کو فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی ساکھ مجروح ہوگی۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اکثریتی رائے کے مقابلے میں اقلیتی رائے کو ترجیح دی، وزیر اعظم نے نیپرا فیصلے کے خلاف پاور ڈویژن کو موجودہ صارفین کے کانٹریکٹ کے تحفظ کےلیے نظر ثانی اپیل کی ہدایت کی۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-3-2 21:44 GMT+5 , Processed in 5.956924 second(s), 22 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list