Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 808|Reply: 0

فارمیسی ایکٹ 1967ء میں مجوزہ ترامیم تیار کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
206021
Post time 2026-2-12 20:58:05 | Show all posts |Read mode
  
— فائل فوٹو

وفاقی حکومت نے فارمیسی ایکٹ 1967ء میں مجوزہ ترامیم تیار کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم کا تعلق کراچی سے ہونے کے باوجود کراچی سے کسی بھی ماہر کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزارتِ قومی صحت خدمات کے اسپیشل سیکریٹری کریں گے۔  

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے دیگر اراکین میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، صدر پاکستان فارمیسی کونسل ڈاکٹر اختر عباس خان (سیکریٹری، پاکستان فارمیسی کونسل) بطور کنوینئر، پروفیسر ظہیر الدین بابر (قطر یونیورسٹی، دوحہ) بطور بین الاقوامی ماہر، محمد ابراہیم (سیکریٹری، پاکستان فارمیسی کونسل خیبرپختونخوا)، پروفیسر توصیف راجپوت (ڈین، شفا تمرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد)، پروفیسر ڈاکٹر توفیق الرحمٰن (چیئرمین، شعبۂ فارمیسی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد)، پروفیسر ڈاکٹر فرقان کے ہاشمی (جنرل سیکریٹری، پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن) اور عامر لطیف (ڈائریکٹر لیگل افیئرز، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان) شامل ہیں۔    
مصطفیٰ کمال نے ڈاکٹرز کو خوشخبری سنا دی

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ڈاکٹرز کو خوشخبری سنا دی۔    

نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی ماہر کو بطور شریک رکن شامل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔  

نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے اغراض و مقاصد میں فارمیسی ایکٹ 1967ء کا جامع جائزہ لے کر اسے موجودہ صحت عامہ کی ضروریات، آئینی تقاضوں اور عالمی بہترین روایات سے ہم آہنگ بنانا شامل ہے تاکہ فارمیسی ریگولیشن، تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی فارمیسی کونسل آف پاکستان کے انتظامی و احتسابی نظام، 18ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں وفاق اور صوبوں کے کردار، فارمیسی تعلیم و ایکریڈیٹیشن، رجسٹریشن و لائسنسنگ، بین الصوبائی نقل و حرکت، ڈیجیٹل رجسٹرز، لازمی کنٹینیونگ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (CPD) اور اخلاقی و تادیبی ضوابط کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے تین ماہ کے اندر اپنی حتمی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-3-2 19:44 GMT+5 , Processed in 0.045718 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list