Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 939|Reply: 0

صحت کا نظام تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے قومی طبی ایمرجنسی نافذ کی جائے، پی ایم اے کا مطالبہ

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
199522
Post time 2026-2-13 05:52:04 | Show all posts |Read mode
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک کی موجودہ صحت کی صورتحال کو قومی طبی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نظامِ صحت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے پی ایم اے ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران کیا،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے  رہنماؤں نے کہا کہ یہ بریفنگ معمول کی پالیسی بحث کے لیے نہیں بلکہ قومی طبی ایمرجنسی کے اعلان کے لیے بلائی گئی ہے اور عوامی صحت کا نظام مفلوج ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ صحت پر سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ معیار کے برعکس پاکستان میں 2500 مریضوں پر صرف ایک نرس موجود ہے۔



مقررین نے کہا کہ سال 2025 میں تین ہزار سے زائد اسپیشلسٹ ڈاکٹر ملک چھوڑ چکے ہیں۔ دیہی علاقوں میں 45 فیصد بنیادی مراکز صحت غیر فعال ہیں جبکہ شہروں میں ڈاکٹروں کو ایمرجنسی وارڈز میں تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پی ایم اے نے کہا کہ بڑے شہروں کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے 40 فیصد مریض آلودہ پانی کے باعث بیمار ہوتے ہیں۔ پولیو اور ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ جیسے امراض دوبارہ سامنے آ رہے ہیں۔ ملک میں 3 کروڑ 40 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں اور ایشیا میں چھاتی کے کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔



مقررین نے کہا کہ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 501 تک پہنچ چکا ہے۔ ہر روز 675 نوزائیدہ بچے اور 27 مائیں ناقابل علاج وجوہات کی بنا پر انتقال کر جاتی ہیں۔

پی ایم اے حکام نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول سے آزاد کرنے کے بعد بلڈ پریشر، شوگر اور دمہ کی ادویات کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انسولین سمیت 80 ضروری ادویات کی قلت ہے اور ڈریپ مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ صحت کا بجٹ جی ڈی پی کے کم از کم تین فیصد تک بڑھایا جائے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں منجمد کی جائیں، ہیلتھ کیئر ورکرز پر تشدد کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے، صاف پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جائے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ پی ایم ڈی سی کو شفاف ادارہ بنایا جائے، تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس لگا کر نیشنل این سی ڈی کمیشن قائم کیا جائے، نرسوں اور دیہی ڈاکٹروں کے لیے سیکیورٹی اور مراعاتی پیکج دیا جائے اور ضروری ادویات کی قیمتوں کی سخت ریگولیشن کی جائے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-2-13 03:17 GMT+5 , Processed in 0.136534 second(s), 22 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list