Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 204|Reply: 0

احمد شہزاد نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پر تنقید کیوں کی؟

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
200143
Post time 2026-2-13 19:43:23 | Show all posts |Read mode
  
احمد شہزاد — فائل فوٹو

قومی کرکٹر احمد شہزاد نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

احمد شہزاد نے ’جیو نیوز‘ کے مشہور پروگرام ’ہارنا منع ہے‘ میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے لیے ہونے والے پلیئرز آکشن کے دوران کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے رویے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ وفاداری کی بات کریں تو وہ وفاداری کے کہیں قریب بھی نہیں ہے، میں نے 3 یا 4 سیزن تک پرفارم کیا ہے لیکن مجھے کوئی فون کال نہیں آئی۔

کرکٹر نے اپنے علاوہ گزشتہ سیزن میں ٹیم کی کپتانی کرنے والے کھلاڑی سعود شکیل کے ساتھ فرنچائز کے سلوک کے بارے میں بھی بات کی۔   
’میرا بیٹا مجھے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے‘، کرکٹ سے دوری پر احمد شہزاد آبدیدہ

تقریباً دو دہائیوں تک پاکستان کے کرکٹ نظام کا حصہ رہنے اور فینز کی جانب سے بھرپور حمایت کے باوجود کسی نے باضابطہ طور پر ان سے رابطہ نہیں کیا۔   

اُنہوں نے بتایا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سعود شکیل کو 50 لاکھ روپے بھی ادا نہیں کرنا چاہتی تھی۔

احمد شہزاد نے لاہور قلندرز کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نئے قوانین کے باوجود فرنچائز نے فخر زمان اور حارث رؤف کو ریلیز کرتے ہوئے شاہین آفریدی کو برقرار رکھا اور بعد ازاں نیلامی کے دوران فخر زمان اور حارث رؤف دونوں کو دوبارہ خرید لیا اور اس پر  ان کے 45 کروڑ روپے لگے۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل) کے11 ویں ایڈیشن کا آغاز 26 مارچ سے ہو گا جو کہ  3 مئی تک جاری رہے گا۔

ٹورنامنٹ میں پہلی بار 8 ٹیمیں حصہ لیں گی یعنی 2 نئی فرنچائزز حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین اور سیالکوٹ اسٹالینز بھی مقابلے میں شامل ہوں گی۔

یاد رہے کہ سابق مالک علی ترین کے ٹیم چھوڑنے کے بعد 2.45 ارب روپے میں فروخت ہونے والی ملتان سلطانز کا نام تبدیل کر کے راولپنڈی رکھ دیا گیا ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-2-13 16:13 GMT+5 , Processed in 0.047889 second(s), 22 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list