|
|
جمعیت علماءاسلام (جے یو آئی) کی خاتون رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ کے بل کی مخالفت کردی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ قانون اور انصاف کے اجلاس میں نفیسہ شاہ کی جانب سے پیش آرٹیکل25 میں ترمیم کرکے غیر مسلم کا لفظ شامل کرنے کا بل پھر موخر کردیا گیا۔
اس معاملے پر عالیہ کامران نے کہا کہ یہ بل کافی پرانا ہوچکا ہے اس پر کوئی حل نکالنا چاہیے، کمیٹی وزارت انسانی حقوق اور صوبوں کو خط لکھے، وزارت قانون اور انصاف اس بل پر کیا کر رہی ہیں؟
سیکریٹری وزارت قانون اور انصاف نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی لکھا، دوبارہ لکھ دیتے ہیں۔
وزیر مملکت نے کمیٹی کو بتایا کہ آرٹیکل25 میں واضح ہےتمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں، آرٹیکل کے مطابق ریاست عورتوں، بچوں کے تحفظ کے خصوصی اقدامات کرسکتی ہے۔
دوران اجلاس عالیہ کامران نے کہا کہ میں اس بل کی مخالفت کرتی ہوں، اگر یہ بل پاس ہوا تو اس کے مطابق آپ کا صدر اور وزیراعظم بھی غیر مسلم ہوسکتا ہے، وزارت انسانی حقوق کا جو بھی جواب آئے ہم اس بل کی مخالفت کریں گے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب آئین واضح ہے تو اس میں کچھ اور ترمیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ |
|