امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا۔
امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر یکطرفہ ٹیرف نافذ کر کے وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی۔
عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے قرار دیا کہ صدر کو اتنے وسیع اختیارات استعمال کرنے کے لیے کانگریس کی واضح منظوری درکار تھی۔
ٹرمپ کی جانب سے عالمی ٹیرف میں اضافے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ 1500 پوائنٹس گرگئی
مغربی میڈیا کے مطابق ٹیرف بڑھانے کے اعلان کے بعد دنیا بھر کی مالیاتی منڈیاں شدید دباؤ میں ہیں۔
سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ جان رابرٹس نے تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ صدر کی جانب سے ’لا محدود مقدار، مدت اور دائرہ کار‘ کے ٹیرف لگانے کا دعویٰ غیر معمولی اختیار ہے جس کے لیے واضح قانونی بنیاد ضروری ہے۔
عدالت نے کہا کہ جس ہنگامی اختیار کا سہارا لے کر ٹیرف لگائے گئے، وہ اس حد تک طاقت استعمال کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
امریکا نے چین پر عائد ٹیرف کی شرح 145 فیصد سے بڑھاکر 245 فیصد کرنے کی تیاری کرلی
ترجمان چینی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بہتر ہوگا کہ امریکا سے ہی پوچھ لیا جائے کہ وہ آخر چین پر کتنا ٹیرف لگانا چاہتا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ ماہرین کے مطابق فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، فیصلے نے نئی حد مقرر کردی کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کن پالیسیوں کا نفاذ کر سکتے ہیں، واضح نہیں کہ دیگر ممالک اس فیصلے پر کیا ردعمل دیں گے۔
ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیا تھا، جبکہ امریکی صدر نے گزشتہ ماہ بیان دیا تھا کہ عدالت نے امریکا کے خلاف فیصلہ دیا تو ہم مشکل میں پڑ جائیں گے۔