امریکا کے ری پبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی بچوں کے قتل عام کی حمایت کردی۔
سینیٹر لنزے نے کہا کہ اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے تو یہی کرتے۔
اسکائی نیوز عربیہ کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ میں جرمنوں کو بھوکا مارتے ہوئے کیا ہم نے ایک منٹ بھی سوچا؟ ہم نے ہر ہر شہر پر بم پھینک کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے۔ یہ جنگ ہے بھئی۔
ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں فوجی اڈہ بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، برطانوی اخبار
اخبار کے مطابق فوجی اڈہ 5 ہزار فوجیوں پر مشتمل اور 350 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر تعمیر ہوگا، فوجی اڈہ مستقبل کی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے آپریٹنگ بیس ہوگا۔
اس سوال پر آپ 7 اکتوبر کا موازنہ دوسری عالمی جنگ سے کر رہے ہیں؟ سینیٹر گراہم نے کہا کہ جی بالکل کر رہا ہوں، یہ یہودی ریاست کے وجود کیلئے خطرہ تھا۔
امریکی سینیٹر گراہم نے کہا کہ ہم نے برلن کو بھی ملبے کا ڈھیر بنایا تھا۔ ہم نے ٹوکیو کو بھی ملبے کا ڈھیر بنایا تھا۔ کیا ہم نے ایٹم بم گرا کر غلطی کی تھی تا کہ جاپان کے دورِ تشدد کو ختم کیا جا سکے؟ کیا ہم غلط تھے؟ اس لیے میرے خیال میں اگر اسرائیل کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو اسرائیل نے کیا۔ فوجی کام یابی کے بغیر ریڈیکل ازم کو توڑنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ زیادہ تر ری پبلکن ویسا ہی سوچتے ہیں جیسا میں سوچتا ہوں۔
خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں 10 اکتوبر 2025 کے جنگ بندی اعلان کے بعد بھی اسرائیل کی جانب سے تقریباً روزانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سیکڑوں افراد شہید ہوئے۔
غزہ گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر 2025 سے 10 فروری 2026 تک جنگ بندی کی کم از کم 1,620 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔