|
|
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اب ٹیرف کے لیے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا اور یوں رواں سال کے دوران ٹیرف کم و بیش یہی رہیں گے جو اس وقت موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ٹیرف کے لیے سیکشن 232 اور سیکشن 301 کا سہارا لیا جائے گا جنھیں عدالتوں میں کئی مرتبہ چیلنج کیا گیا مگر عدالتوں نے انھیں درست قرار دیا ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے۔
خیال رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر پچھلے سال لگائے گئے صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ سنایا، جسے چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا۔ |
|