امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے سپریم کورٹ کا فیصلہ لاقانونیت پر مبنی قرار دیدیا۔
نائب صدر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ عدالتی فیصلہ صاف اور سادہ الفاظ میں قانون شکنی ہے اور اس سے صدر کے لیے امریکی صنعتوں اور سپلائی چین کے تحفظ کو یقینی بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ٹیرف کے لیے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا، امریکی وزیر خزانہ
انہوں نے کہا کہ اب ٹیرف کے لیے سیکشن 232 اور سیکشن 301 کا سہارا لیا جائے گا جنھیں عدالتوں میں کئی مرتبہ چیلنج کیا گیا مگر عدالتوں نے انھیں درست قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ٹیرف عائد کرنے کے دیگر کئی اختیارات موجود ہیں اور وہ امریکی ورکرز کے دفاع اور انتظامیہ کی تجارتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے ان اختیارات کو استعمال کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ اب ٹیرف کے لیے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا۔