|
|
فائل فوٹو
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستانی خاتون کے افغان شوہر کی شہریت اور پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) سے متعلق درخواست پر 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
جسٹس انعام اللہ خان نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا اور درخواست گزار کو پی او سی کےلیے فریش اپلائی کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے نادرا اور سیکریٹری داخلہ حکام کو 6 ماہ میں قانون کے مطابق فیصلہ کرنے اور اس دوران درخواست گزاروں کو ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم دیدیا ہے۔
درخواست گزار خاتون کے مطابق وہ پاکستانی شہری ہیں اور انہوں نے افغان شہری سے شادی کی، انہوں نے پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1952 کے سیکشن 10(2) کے تحت پاکستانی کارڈ کے لیے درخواست دی تاہم متعلقہ فریقین نے سٹیزن شپ اور پی او سی کی درخواست مسترد کر دی اور فارم ایچ جاری کرنے سے بھی انکار کیا، جو پی او سی کے لیے لازمی ہوتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات منسلک نہیں تھیں لہٰذا درخواست گزار پی او سی کے لیے دوبارہ درخواست دیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ نادرا درخواست کو نادرا آرڈیننس 2002ء کے سیکشن 11 اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی رولز 2002ء کے رول 4 اور 5 کے مطابق دیکھے اور اگر کسی کمی کی بنیاد پر درخواست مسترد کی جائے تو درخواست گزار کو فوری اور تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کے شوہر نیچرلائزیشن ایکٹ 1962ء کے سیکشن 5 کے تحت نیچرلائزیشن کے لیے درخواست دیں، سیکرٹری داخلہ اور نادرا 6 ماہ کے اندر کیس پر فیصلہ کریں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ بچوں کی رجسٹریشن کے لیے متعلقہ نادرا رجسٹریشن سینٹرز سے رجوع کیا جائے اور نادرا قانون کے مطابق کارروائی کرے، عدالت نے حکم دیا کہ 6 ماہ تک درخواست گزاروں کو ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔ |
|