|
|
فوٹو: فائل
بھارت میں ہزاروں کشمیری خانہ بدوش تاجروں اور شال فروشوں پر ہونے والے نفرت انگیز حملوں کی لہر سے ان کا گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بھارت بھر میں تقریباً 200 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں کشمیری طلبہ، شال فروش یا مزدور نشانہ بنے۔
عرب ٹی وی کے مطابق کشمیری مسلمان دہری آزمائش کا شکار ہیں، ان کا مذہب بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کا آبائی خطہ بھی۔ سوشل میڈیا اور بعض بااثر شخصیات جو مودی کی جماعت بی جے پی سے منسلک ہیں، انکی تقاریر میں بھی کشمیریوں کیخلاف بیان بازی دیکھنے میں آتی ہے۔
جہاں ان کشمیریوں کو سیکیورٹی خطرہ ہے وہیں انھیں قوم دشمن یا پاکستانی ایجنٹ کہا جاتا ہے۔
دریں اثنا مقبوضہ کشمیر کے وزیرِاعلیٰ عمر عبداللہ نے ان حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے شمالی بھارتی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا اور ان سے ایسے واقعات کی روک تھام کی اپیل کی ہے۔
محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا کہ حملہ آور متعلقہ ریاستی حکام کی پشت پناہی میں کام کر رہے ہیں۔ 2019 میں مودی حکومت نے کشمیر کی آئینی خود مختاری ختم کر کے اسے براہِ راست نئی دلی کےکنٹرول میں دے دیا۔
اس کے بعد معیشت مزید خراب اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، اور بہت سے کشمیری بھارت کے دیگر شہروں میں کام کرنے پر مجبور ہوئے۔ |
|