|
|
فوٹو بشکریہ بین الاقوامی
گالاپاگوس جزیرے کے چھوٹے جزیرے فلوریانا پر 150 سال بعد دیوہیکل کچھوؤں کی واپسی ہوگئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق 20 فروری کو گالاپاگوس نیشنل پارک ڈائریکٹوریٹ اور اس کے شراکت داروں نے 158 دیوہیکل کچھوؤں کو جزیرے میں آزاد کیا ہے۔
یہ نسل 1800 کی دہائی میں وہیل مچھلی کے شکاریوں اور دیگر وجوہات کے باعث ختم ہو گئی تھی۔
کچھوؤں کے غائب ہونے سے جزیرے کا قدرتی نظام متاثر ہوا تھا کیونکہ یہ جانور پودوں کی افزائش، راستے بنانے اور بیج پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں NASA کی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی جس کے ذریعے زمین، بارش، درجۂ حرارت اور نباتات کا تجزیہ کر کے کچھوؤں کے لیے موزوں رہائش کا تعین کیا گیا۔
اس مقصد کے لیے لینڈسیٹ، گلوبل پریسیپیٹیشن میژرمنٹ اور ٹیرا سیٹلائٹ کا ڈیٹا استعمال ہوا جس سے 40 سال تک کے ماحولیاتی حالات کی پیش گوئی ممکن ہوئی۔
تحقیق کے دوران Wolf Volcano پر ملنے والے کچھوؤں کے ڈی این اے نے ثابت کیا کہ ان کا تعلق فلوریانا نسل سے ہے جس کے بعد افزائشی پروگرام شروع کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق پارک حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 60 برسوں میں پورے جزائر میں 10 ہزار سے زائد کچھوے چھوڑے جا چکے ہیں جو دنیا کی بڑی ’ری وائلڈنگ‘ (rewilding efforts) کوششوں میں سے ایک ہے۔ |
|