|
|
بین الاقوامی شہرت یافتہ کامیڈین حنیف راجہ۔فوٹو: فائل
بین الاقوامی شہرت یافتہ کامیڈین حنیف راجہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں گھوم چکا ہوں، دبئی اور شارجہ تو میرے لیے ایسے ہے، جیسے کوئی لانڈھی کورنگی جاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنگ ڈیجیٹل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
حنیف راجہ نے کہا کہ معین اختر اور عمر شریف کے ساتھ بہت کام کیا، وہ ہمیں سپورٹ کرتے تھے، جب کہ عمر شریف کے ساتھ ایک چھوٹی سے پرابلم تھی کہ وہ ساتھی فنکار کو ٹینشن دیتے تھے، دونوں اپنی اپنی جگہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔
مزاح کے راجہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ابتدا میں ڈائجسٹوں میں اسکیج بناتا تھا اور ایک ڈائجسٹ کے دفتر میں ملازمت بھی کی۔ ایک زمانے میں شادی بیاہ کے موقع پر بہت زیادہ شوز ہوتے تھے، اس سے مجھے پہچان ملی۔ بعد ازاں مجھے فرید خان مرحوم کمرشل شوز کی جانب لے آئے۔ اس طرح میں اسٹیج ڈراموں کی جانب آگیا۔
انھوں نے کہا کہ 90ء کی دہائی میں ذوالقرنین حیدر کے ساتھ ڈراما کیا، استادوں کے استاد، اس میں لیاقت سولجر، شہزاد رضا اور لاہور سے فلم اسٹار علی اعجاز نے بھی کام کیا تھا۔
حنیف راجہ کا کہنا ہے کہ اس اسٹیج ڈرامے سے مجھے شناخت ملی اور پھر مجھے معین اختر بھائی نے اپنے ساتھ ٹیم میں شامل کرلیا، پھر وہ پروگرام میری زندگی میں شامل ہوگیا، جس نے مجھے بین الاقوامی شہرت دی۔ وہ پروگرام کیسا، تھا۔ اس پروگرام کو دنیا بھر میں نقل کیا گیا۔ |
|