|
|
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی پری سیڈنگ حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سرپرائز بن گئی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کبھی بھی ڈراز نہیں کیے، ہمیشہ پریس ریلیز کے ذریعے گروپس کا اعلان کر دیا جاتا ہے، ٹیموں کی تقسیم کے حوالے سے کوئی وضاحت بھی نہیں کی جاتی، اسی طرح ہر بار پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں شامل کیا جاتا ہے۔
اس بار بھی سپر 8 راؤنڈ کے لیے آئی سی سی نے پہلے سے ہی تصور کرلیا تھا کہ ٹاپ 8 ٹیمیں ہی اگلے راؤنڈ میں جائیں گی، مگر زمبابوے نے آسٹریلیا کی جگہ رواں راؤنڈ میں جگہ بنا لی۔
مزید پڑھیں
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آسٹریلیا اور آئرلینڈ ایونٹ سے باہر، زمبابوے سپر ایٹ میں پہنچ گیا
اس طرح آئی سی سی نے جو پری سیڈنگ کی اس کے تحت جب ٹیموں کو گروپ ون اور گروپ ٹو میں شامل کیا گیا تو حیران کن طور پر اپنے اپنے گروپس کی ٹاپ ٹیمیں گروپ ون جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والی ٹیمیں گروپ 2 میں شامل ہوگئیں۔
آئی سی سی کا پری سیڈنگ کے حوالے سے موقف ہے کہ اس سے شائقین کو بہتر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی ٹیمیں کب کہاں کھیلیں گی، اس سے انھیں اپنا سفری پروگرام فائنل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ |
|