|
|
— فائل فوٹو
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی آج دورۂ اسرائیل پر روانہ ہو گئے ہیں۔
نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کا آغاز ہونے سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا علاقائی اتحاد ’ہیگزاگون‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ میں اپنے سامنے جو ویژن دیکھ رہا ہوں، اس میں ہم ایک پورا نظام بنائیں گے، بنیادی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے ارد گرد یا اس کے اندر اتحادیوں کا ایک ’ہیگزاگون‘ یعنی مسدس بنائیں گے۔
نیتن یاہو نے بھارت کو ’عالمی طاقت‘ اور مودی کو ’قریبی دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعلقات گہرے اور مضبوط ہو گئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے جو نیا علاقائی اتحاد بنانے کا اعلان کیا وہ آخر ہے کیا؟ وہ اس نئے اتحاد میں بھارت کو کیوں شامل کرنا چاہتے ہیں اور اس اتحاد کا مقصد کیا ہے؟
علاقائی اتحاد’ہیگزاگون‘ کیا ہے؟
علاقائی اتحاد’ہیگزاگون‘ میں بھارت، عرب ممالک، افریقی ممالک، بحیرۂ روم کے ممالک یونان، قبرص اور ایشیاء کی دیگر نامعلوم اقوام شامل ہیں۔
اس علاقائی اتحاد کا مقصد مبینہ طور پر کنیکٹیویٹی کو فروغ دے کر اقتصادی ترقی کو تقویت دینا اور ابھرتے ہوئے شدت پسند شیعہ اور سنی محاذوں کا مقابلہ کرنا بتایا گیا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس اتحاد میں شامل قومیں مختلف تاثرات رکھتی ہیں اور ان کے درمیان تعاون شاندار نتائج دے سکتا ہے اور ایک بہترین مستقبل کو یقینی بنا سکتا ہے۔
نیتن یاہو ہیگزاگون میں بھارت کو کیوں شامل کرنا چاہتے ہیں؟
بھارت خطے میں ایک ایسا ملک ہے جس کے چین، روس اور امریکا کے ساتھ یکساں تعلقات ہیں۔
علاوہ ازیں بھارت کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور یہ سعودی عرب کے ساتھ بھی اپنے اسٹریٹجک تعاون کو بڑھا رہا ہے۔
اس حوالے سے کنگز کالج لندن میں سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آندریاس کریگ نے عرب میڈیا سے گفتگو میں نیتن یاہو کے اس طرح کے علاقائی اتحاد کو خطرے کی علامت قرار دیا ہے۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ اس علاقائی اتحاد سے خطے میں شدید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
آندریاس کریگ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت اگر اس علاقائی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے راضی ہوتا ہے تو اس کے بنیادی مفادات اسرائیل کے علاقائی عزائم کے بجائے دفاع، ٹیکنالوجی اور تجارت میں ہیں۔
واضح رہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک نے باقاعدہ طور پر اس علاقائی اتحاد یا فرقہ وارانہ تشکیل کا حصہ بننے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ |
|