سوال: قے ہوجانے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
روزے سے متعلق مسئلے پر مفتی منیب الرحمٰن کا جواب: خود بخود بلا اختیار قے ہوجانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے منہ بھر ہو یا کم ہو، قصداً (جان بوجھ کر) قے کرنے سے اگر منہ بھر ہو تو بالاتفاق روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے، ترجمہ: ’اگر بلا اختیار قے ہو گئی اور حلق میں نہ لوٹی تو مطلقاً روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ منہ بھر ہو یا منہ بھر نہ ہو‘۔
زکوٰۃ کی رقم سے فلسطینی مسلمانوں کی امداد کا حکم
سوال: کیا زکوٰۃ کی رقم سے فلسطینی مسلمانوں کی امداد کی جا سکتی ہے؟
مزید لکھتے ہیں، ترجمہ: ’اور اگر قصداً (جان بوجھ کر) قے کی یعنی یہ اپنا روزے دار ہونا یاد تھا، تو اگر منہ بھر ہے تو اس پر اجماع ہے روزہ ٹوٹ گیا اور اگر منہ بھر سے کم ہے تو روزہ نہیں ٹوٹا اور صحیح مذہب کے مطابق منہ بھر سے کم میں نہیں ٹوٹتا، ( جلد3، ص: 349 تا 352)‘۔
علامہ نظام الدین رحمہ اللّٰہ تعالیٰ لکھتے ہیں، ترجمہ: ’قے کے یہ احکام اس وقت ہیں جب قے میں کھانا یا صفراء یا خون آئے، اگر بلغم آیا تو روزہ نہیں ٹوٹتا، (فتاویٰ عالمگیری ، جلد 1 ، ص: 204 )‘۔
ترجمہ: ’حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے بے اختیار قے کی، اُس پر قضا نہیں اور جس نے قصداً قے کی، اُس پر روزے کی قضا ہے، (سُنن ترمذی :720)‘۔