|
|
فائل فوٹو
پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت اپر ٹیئر لوکل گورنمنٹس کو غیر معمولی مالی اور انتظامی اختیارات دینے کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
ٹاؤن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز اور تحصیل کونسلز کو ٹیکس، فیس اور جرمانوں کی منظوری اور وصولی کے مکمل اختیارات دینے کی تجویز شامل ہے، جس کے بعد مقامی حکومتیں مالی طور پر زیادہ خود مختار ہو سکیں گی۔
ذرائع پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت شہری ترقیاتی منصوبے، ماسٹر پلان، لینڈ یوز اور زوننگ جیسے اہم معاملات اپر ٹیئر لوکل گورنمنٹس کے سپرد ہوں گے۔
اسی طرح بلڈنگ کنٹرول، ہاؤسنگ اسکیموں اور نجی اراضی کے استعمال پر کنٹرول بھی مقامی حکومتوں کو دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ پانی کی فراہمی، سیوریج، صفائی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ٹریفک مینجمنٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی ذمہ داری بھی لوکل گورنمنٹس کو منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ فائر فائٹنگ، اسٹریٹ لائٹنگ، پارکس، کھیل کے میدان اور قبرستان بھی بلدیاتی دائرہ اختیار میں ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق بازاروں، بس ٹرمینلز، پارکنگ اسٹینڈز اور سلاٹر ہاؤسز کی ریگولیشن بھی مقامی سطح پر کی جائے گی، جبکہ شہری ریکارڈ، ڈیٹا بیس اور عوامی معلومات تک رسائی کی ذمہ داری بھی لوکل اداروں کو دی جائے گی۔
نئے بلدیاتی نظام میں یونین کونسلز کو بنیادی خدمات، رجسٹریشن اور عوامی شکایات کے ازالے کا کردار سونپا جائے گا، تاہم اس بات کی واضح شرط شامل کی گئی ہے کہ یونین کونسلز کو وسائل فراہم کیے بغیر اضافی ذمہ داریاں نہیں دی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ نیا بلدیاتی نظام اختیارات کے ٹکراؤ اور انتظامی خلا کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرکے عوامی مسائل کے فوری حل کی راہ ہموار کرے گا۔ |
|