|
|
فوٹو: فائل
قائم مقام چیئرپرسن شگفتہ جمانی کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی نے وزیر مذہبی امور سے بریفنگ مانگ لی اور کہا کہ حج معاونین اور حج کے دیگر امور سے متعلق پیشرف سے آگاہ کیا جائے۔
قائم مقام چیئرپرس شگفتہ جمانی کا کہنا تھا کہ حج اور دیگر معاملات پر بہت سے تجربات کیے جارہے ہیں، وزارت حج کا ہر افسر نیا تجربہ کرتا ہے۔
شگفتہ جمانی نے کہا کہ تین برس سے حج خدمات کےلیے جس کمپنی سے معاہدہ کیا جارہا ہے وہ بلیک لسٹ ہوچکی ہے، بتایا جائے کتنی کمپنیوں نے اس مرتبہ سروسز فراہمی کےلیے اپلائی کیا تھا۔
چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ حج معاونین کے لیے 39 ہزار درخواستیں آئیں، 800 کا انتخاب کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حج معاونین کے لیے 45 برس کی شرط کیوں ہے؟ ریٹائرمنٹ کے لیے 60 برس کی عمر ہے تو معاونین کےلیے 45 سال کیوں۔
کمیٹی نے کہا کہ حج معاونین کےلیے جو تحریری امتحان لیا گیا وہ پرچہ فراہم کیا جائے، وزیر مذہبی امور آئندہ اجلاس میں کمیٹی کر بریفنگ دیں۔
شگفتہ جمالی کا کہنا تھا کہ بریفنگ کی روشنی میں حج معاملات سے متعلق ذیلی کمیٹی بنانے پر غور کیا جائے گا۔
ہمیں حج کے ہر معاملے پر کہا جاتا ہے کہ سعودی ہدایات کی روشنی میں اقدامات کیے جارہے ہیں، ہمیں نہیں پتا چلتا کون سا قدم سعودی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے۔ |
|