فلم ورکرز یونین فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (FWICE) نے بھارتی فلم گھوس خور پنڈت پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔
بھارتی اداکار منوج باجپائی کی آنے والی فلم گھوسخور پنڈت اعلان کے فوراً بعد ہی شدید تنازع میں گھِر گئی۔ فلم کے عنوان پر اعتراضات پہلے سوشل میڈیا پر اٹھے اور اب یہ معاملہ قانونی اور سیاسی سطح تک پہنچ گیا ہے۔
فلم ورکرز یونین فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے فلم پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلم کا عنوان ’توہین آمیز اور ناقابلِ قبول‘ ہے اور یہ کسی مخصوص برادری کو نشانہ بناتا ہے۔
منوج باجپائی نے اپنی نئی فلم کی ٹیم کیخلاف ایف آئی آر پر خاموشی توڑ دی
بالی ووڈ کے سینئر اور ورسٹائل اداکار منوج باجپائی نے گھوس خور پنڈت کی ٹیم اور اسکے ہدایتکار نیراج پانڈے کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے معاملے پر اپنی خاموشی توڑ دی اور کہا کہ یہ کسی کمیونٹی کے خلاف بیان نہیں۔
یونین کے صدر بی این تیواڑی نے کہا کہ اگر فلم کی ریلیز روکی نہ گئی تو پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور کاسٹ کے خلاف عدم تعاون کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ میں فلم کی ریلیز روکنے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم کا عنوان اور پروموشنل مواد ’ہتک آمیز اور فرقہ وارانہ‘ ہے۔
اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں برہمن تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اتر پردیش حکومت نے فلم کے ڈائریکٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا، جبکہ کئی مقامات پر فلم سازوں اور منوج باجپائی کے پتلے جلائے گئے۔
منوج باجپائی کا ردعمل
منوج باجپائی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’جب کوئی چیز جس کا آپ حصہ ہیں، لوگوں کو تکلیف دیتی ہے، تو سننا ضروری ہوتا ہے۔ میرا فیصلہ کردار کی کہانی کی بنیاد پر تھا، کسی برادری پر تبصرہ کرنے کے لیے نہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ عوامی جذبات کے پیش نظر فلم کا پروموشنل مواد ہٹا دیا گیا ہے۔
فلم ساز خاموش
ابھی تک فلم کے ڈائریکٹرز اور متعلقہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم نے اس تنازع پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ قانونی کارروائی اور احتجاج کے باعث فلم گھوس خور پنڈت کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔