|
|
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کو 19 سال مکمل ہوگئے، متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں 44 پاکستانی شہریوں سمیت 68 مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔
اسلام آباد سے ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت کا متاثرہ خاندانوں کے ساتھ غیر سنجیدہ رویہ شدید مایوس کن ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا پاکستان نے سمجھوتہ ایکسپریس حملے کے چاروں ملزمان کی بریت کی شدید مذمت کی، سوامی اسیمنند، لیفٹننٹ کرنل پروہت اور سادھوی پرگیا سمیت ملزمان کی بریت پر اظہار تشویش ہے۔
انھوں نے ہندوتوا انتہاپسندی اور ’’سیفران دہشت گردی‘‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت حملے کے ذمہ داران اور معاونین کے خلاف منصفانہ ٹرائل کرے، سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں ملزمان کی بریت بھارت کی دہری پالیسی کی مثال ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور دہشت گردی کے الزامات کا بیانیہ مسترد کرتے ہیں۔ |
|