|
|
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنیوا میں آج تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایران امریکا مذاکرات کے تیسرے دور میں بات چیت کے دوران وقفہ ہوا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے ایرانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ مذاکرات بہت سنجیدہ تھے اور کئی اقدامات ایسے اٹھائے گئے ہیں جن پر مزید ممالک سے مشاورت کی ضرورت ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات تیسرے مرحلے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ایران کی یورینیم افزودگی 60 فیصد سے 3.6 فیصد تک کم کرنےکی پیشکش
عرب سفارت کار کا کہنا ہے کہ ایران نے معاہدے کا مجوزہ مسودہ امریکا کو پیش کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی کی 7 سالہ معطلی، افزودگی میں 60 فیصد کمی اور جوہری بجلی گھر کے لیے افزودگی 3 اعشاریہ 6 فیصد پر لانے کی تجاویز دی گئی ہیں لیکن ایران نے یورینیم ذخائر بیرون ملک منتقل کرنے سے انکارکر دیا ہے۔
عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی مسودہ امریکی وفد کو پیش کردیا، عمانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکی وفد سے ملاقات میں ایران کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور معاہدے کے لیے ضروری ضمانتوں پر بات کی گئی۔
ایرانی دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کا جوہری ہتھیار تیار نہ کرنا ہے تو یہ ایرانی قیادت کے فتوے اور ایران کے دفاعی نظریے کے عین مطابق ہے، عباس عراقچی کے پاس حمایت اور اختیار ہے کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچ سکیں۔
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے آج کے مذاکرات نتیجہ خیز رہنے کی امید ظاہر کی ہے، اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر خطے کے ممالک کی حدود ایران کے خلاف استعمال ہوئيں تو ان ملکوں میں امریکی اڈوں کو ہدف بنانا جائز ہوگا۔ |
|