|
|
تصویر سوشل میڈیا۔
بھارتی ریاست اتر اکھنڈ کے شہر رودرا پور میں نماز پڑھتے ہوئے مزدور پر ہندو شخص کے تشدد نے بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مسلمان مزدور شاہد ایک خالی میدان میں ظہر کی نماز ادا کر رہا تھا کہ اروند شرما نامی ہندو نے شاہد کو لاتوں اور ڈنڈوں سے مارا، معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا اور مذہبی نعرہ لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔
شاہد کے مطابق وہ گذشتہ تین دنوں سے یہاں نماز ادا کر رہا تھا، کسی نے اعتراض نہیں کیا، وہ اجرت پر کام کرتا ہے۔ رمضان ہے مسجد دور ہے اس لیے میدان میں نماز ادا کر رہا تھا۔
ملزم اروند شرما کا دعویٰ ہے کہ شاہد مندر میں نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ اَروند شرما کی سابقہ بیوی کا کہنا ہے کہ اروند اس سے پہلے رمضان میں مسلمانوں کے لیے افطاری کا انتظام بھی کیا کرتا تھا، یہ واقعہ شاید توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
حکام کے مطابق اروند شرما قتل کے جرم میں قید تھا اور پیرول پر رہا ہوا تھا، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔
مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ اگر واقعہ مذہبی بنیاد پر ہے تو ملزم کو اس کی سخت سے سخت سزا دی جائے۔ |
|