چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک پیج پر آنا چاہیے۔
لاڑکانہ میں افطار ڈنر سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، گزشتہ روز افغانستان کی عبوری حکومت نے پاکستان پر حملہ کیا ہے۔
افغان طالبان رجیم بھارت کی بی ٹیم بن چکی، شرجیل میمن
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بھارت اور اُس کی پراکسیز کو ایک بار پھر دھول چٹائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے اس حملے کا بھرپور اور کامیاب جواب دیا ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک پیج پر آنا چاہیے، تمام اختلافات بھلا کر ملک کےخلاف سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جانا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف متحد ہوکر حکومت کے موقف کی حمایت کرنی چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ سندھ کا بلدیاتی نظام تمام صوبوں سے زیادہ خودمختار ہے،لاڑکانہ کا میئر بننا آسان نہیں،انور لوہر نےشہریوں کی خدمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انور لوہر کی عوامی خدمت نے جوانی میں ہی ان کے بال سفید کردیے ہیں،کراچی سے لاڑکانہ تک پیپلز پارٹی کے نمائندوں کی خدمت پر ان کا شکرگزارہوں۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ حکومت سندھ اور بلدیاتی اداروں کےخلاف کردار کشی کی مہم مفادات کےتحت چلائی جاتی ہے، کردارکشی مہم کا مقصد کراچی کو سندھ سے الگ کرنا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی قومی ، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے گی،پی پی میڈیا محاذ پر بھی اپنی کامیاب مہم جاری رکھے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ منفی خواہشات پر مبنی مہم کا بھرپور جواب دیا جاتا رہے گا، منفی خواہشات رکھنے والے ماضی میں بھی ناکام رہے ہیں اور اب بھی ناکام ہوں گے۔