ایران میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد قم کی جمکران مسجد کے گنبد پر سرخ ’پرچمِ انتقام‘ لہرا دیا گیا۔
سرخ پرچم کو علامتی طور پر بدلے اور انصاف کے اعلان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جمکران مسجد ایران میں مذہبی اہمیت کی حامل عبادت گاہ ہے، جہاں سرخ پرچم لہرانا غیر معمولی علامتی اقدام سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حامیوں کے غم و غصے اور ممکنہ جوابی کارروائی کے عزم کی علامت ہے، پرچم ایران میں عوام اور پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں لہرایا گیا ہے، تاکہ ملک میں اتحاد اور ہمت کا پیغام دیا جا سکے۔
امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید
امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کردی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی کو ان کے دفتر میں شہید کیا گیا۔ ایران نے جوابی کارروائی میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور اسرائیل پر بھی میزائل داغ دیے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللّٰہ علی خامنہ ای تہران میں اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ فضائی حملے میں شہید ہوئے، خبر سامنے آنے کے بعد ایران سمیت مختلف ممالک میں احتجاج اور سوگ کی لہر دیکھی گئی۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ملک کے انتظامی امور سنبھالنے کے لیے 3 رکنی عبوری قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے، 66 سالہ عالم دین علی رضا اعرافی کو کونسل کا فقیہ رکن مقرر کیا گیا ہے۔
علی رضا اعرافی اس عبوری کونسل میں صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای کے ہمراہ شامل ہوں گے، یہ کونسل اس وقت تک سپریم لیڈر کے فرائض انجام دے گی جب تک مجلس خبرگان نیا سپریم لیڈر منتخب نہیں کر لیتی۔