|
|
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
چین میں ایک بچے نے اپنی جمع شدہ رقم واپس لینے کے لیے والد کے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا۔
شمالی چین کے صوبے ہینان کے شہر ژینگژو میں ایک شخص نے سالوں پہلے اپنے بیٹے شیاؤ ہوئی کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ کھولا تھا اور اس میں بچے کی قمری سالِ نو کے تحفے، جسے ریڈ اینویلپ منی کہا جاتا ہے، سمیت دیگر رقم جمع کرواتے رہے۔
تاہم ایک دن والد نے بچے کی اجازت کے بغیر یہ تمام رقم نکال کر اپنی دوسری شادی پر خرچ کر دی۔
دو سال قبل والدین کی طلاق کے بعد شیاؤ ہوئی اپنے والد کے ساتھ رہ رہا تھا اور اس دوران اس کی بچت باقاعدگی سے اسی بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہی، بعد ازاں والد کی زندگی میں ایک اور خاتون آئی اور والد نے دوبارہ شادی کر لی، جس کے بعد شیاؤ ہوئی کو اس کی والدہ کے پاس بھیج دیا گیا۔
بیٹے کی ماں کو معلوم ہوا کہ والد نے شیاؤ ہوئی کی تقریباً 80 ہزار یوآن (تقریباً 11 ہزار 700 امریکی ڈالرز) کی جمع شدہ رقم نکال کر اپنی شادی کے اخراجات میں استعمال کر دی ہے، جو بچے کی عمر کے لحاظ سے کافی بڑی رقم تھی۔
جب شیاؤ ہوئی نے اپنی جمع شدہ رقم واپس مانگی تو والد نے کہا کہ یہ زیادہ تر خاندان اور دوستوں کی جانب سے دی گئی رقم ہے اور صرف اس وقت واپس کریں گے جب شیاؤ ہوئی بالغ ہو جائے گا، متعدد کوششوں کے ناکام ہونے پر شیاؤ ہوئی نے والد کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا۔
بچے کے والد نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ قانونی سرپرست ہونے کی وجہ سے رقم کو اپنی صوابدید سے استعمال کرنے کا حق دار ہوں اور مقدمہ دراصل والدہ کی اکسانے پر دائر کیا گیا ہے۔
تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ تحفے کے طور پر ملنے والی رقم قانونی طور پر شیاؤ ہوئی کی ذاتی ملکیت ہے اور اس کے والد نے اس حق کی خلاف ورزی کی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ والد کو تمام رقم بمعہ سود واپس کرنا ہو گی، جو مجموعی طور پر 82 ہزار 750 یوآن (تقریباً 12 ہزار 60 امریکی ڈالرز) بنتی ہے۔ |
|