پاکستانی حکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا، مذاکرات 11 مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں گورننس، کرپشن ڈائیگنوسٹک رپورٹ اور نیشنل فِسکل پیکٹ کے نفاذ پر بات ہو گی، غیر مالیاتی اداروں کو مالیاتی امور سے علیحدہ کرنے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ناقص حکمرانی، ٹیکس چوری اور پاکستان میں بدعنوانی کی بنیادی وجوہات پر بھی گفتگو ہو گی، گورننس، کرپشن، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری جیسے معاملات بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
آئی ایم ایف نے اکنامک گورننس ریفارم پلان کے مجموعی نفاذ پر خصوصی اجلاس رکھا ہے، یہ منصوبہ گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق نیشنل فِسکل پیکٹ کے تحت صوبائی نوعیت کے اخراجات صوبوں کو منتقل کرنے پر بات متوقع ہے، وفاقی کابینہ کی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت تفتیشی اختیارات دینے کی منظوری کی شرط بھی مذاکرات کا حصہ ہو گی۔
آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا
ذرائع وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ ہو گی۔
صوبائی ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں اور ٹیکس ریٹرنز پر اپ ڈیٹ مانگی جائے گی، کرپشن رسک اسیسمنٹ رپورٹ پر پیشرفت کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کو فراہم کی جائیں گی۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور سی ایف ٹی اتھارٹی کے تحت ایک ٹاسک فورس کے قیام پر غور ہو گا، سرکاری اداروں کو بغیر بولی سرکاری ٹھیکے لینے کی اجازت ختم کرنا بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔
عدالتوں میں فیصلوں میں تاخیر، اپیلوں اور زیرِ التواء مقدمات کی نگرانی بہتر کرنے کی پالیسی بھی زیرِ غور آئے گی، رواں سال مئی تک ٹیکس شیڈول کم کرنا اور غیر ضروری نظام ختم کرنا مذاکرات کا حصہ ہو گا۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اخراجات صوبوں کے ساتھ شیئر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، صوبائی حکومتوں نے زرعی آمدن پر نئے انکم ٹیکس نظام کے نفاذ میں تاخیر کی ہے، صوبائی انسداد بدعنوانی اداروں کو منی لانڈرنگ کیسز کی تفتیش کے اختیارات دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔