|
|
غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن مزید تیز کرنے اور دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں امن و امان اور سیکیورٹی کے بہترین انتظامات یقینی بنانے کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چیئرمین کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے)، انسپکٹر جنرل (آئی جی ) پولیس، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں راولپنڈی، ہری پور، مری اور اٹک کے ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس افسران نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس میں امن و امان سمیت پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کے خلاف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ پاکستان غیرقانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کےلیے پُرعزم ہے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مکمل طور پر سنگل ویزا رجیم کو نافذ العمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف فارنرز ایکٹ 1946ء کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن کو مزید تیز اور دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد نے غیرقانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کےخلاف اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔
اس موقع پر محمد علی رندھاوا نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کو رہائش دینے پر قانون کے مطابق کارروائیوں کا عمل جاری ہے۔
چیف کمشنر نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کو کاروباری جگہ فراہم کرنے پر ایف آئی آر کا انداراج کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں خرم آغا نے کہا کہ وزرات داخلہ کی جانب سے کوئی بھی ری لوکیشن پروگرام نافذ نہیں کیا گیا ہے، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کے انخلا کےلیے کمیونٹی کو بھی شامل کیا جائے۔
سیکریٹری داخلہ نے مزید کہا کہ تمام افسران اپنے اضلاع کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت چیکنگ کو یقینی بنائیں، چیکنگ کےلیے پولیس اہلکاروں اور انتظامیہ کی موجودگی میں اضافہ کیا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام اہم مقامات، عبادت گاہوں، مساجد اور اہم و حساس عمارات کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا جائے۔
دوران اجلاس آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد میں نگہبان کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مرکزی شاہراہوں، مراکز اور رہائشی علاقوں کی نگرانی کا میکنزم بنایا گیا ہے، مشکوک سرگرمیوں اور افراد پر کڑی نظر رکھنے اور ان کی مکمل تفصیلات کا ڈیٹا مرتب کیا جا چکا ہے۔ |
|