|
|
فوٹو: فائل
مریضوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ احتساب کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر کے تمام رجسٹرڈ میڈیکل اینڈ ڈینٹل پریکٹیشنرز (RMDPs) اور تسلیم شدہ اداروں کے لیے جامع نظرِ ثانی شدہ ضابطۂ اخلاق (کوڈ آف ایتھکس) کی باقاعدہ منظوری اور نفاذ کر دیا ہے۔
دو سالہ تفصیلی جائزے کے بعد کونسل کی توثیق سے منظور ہونے والی یہ نظرِ ثانی شدہ دستاویز طبی شعبے میں اخلاقی نظم و نسق کے استحکام اور عوامی اعتماد کے تحفظ کی جانب ایک سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
صدر پی ایم ڈی سی، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کی قیادت میں ضابطۂ اخلاق کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا تاکہ عصری طبی تقاضوں کو مدنظر رکھا جا سکے، ریگولیٹری خلا کو پُر کیا جا سکے اور قومی معیارات کو بدلتے ہوئے قانونی و پیشہ ورانہ فریم ورک سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
اپنے بیان میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اخلاقی اصولوں کی پابندی محفوظ اور معیاری صحت کی فراہمی کی بنیاد اور طبی پیشے پر عوامی اعتماد کا ستون ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نظرِ ثانی شدہ ضابطۂ اخلاق میں مریضوں کی حفاظت، وقار، رازداری اور باخبر رضامندی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ کلینیکل پریکٹس، تحقیق، تدریس اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل میں احتساب کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت تادیبی نگرانی کو مؤثر بنایا گیا ہے، امتیازی سلوک کے خاتمے اور مساوی علاج کی ضمانت دی گئی ہے، اور مفادات کے ٹکراؤ کے مؤثر انتظام کے لیے واضح رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ کونسل کی اولین ترجیح مریضوں کا تحفظ ہے، جو صرف باصلاحیت، اخلاقی اور شفاف طبی عمل سے ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیا ضابطہ ابھرتے ہوئے اخلاقی چیلنجز کا براہِ راست احاطہ کرتا ہے اور ایسے قابلِ نفاذ معیارات متعارف کراتا ہے جو پاکستان میں صحت کی فراہمی کو اعلیٰ ترین معیار تک لے جائیں گے۔
اس نظرِ ثانی کا ایک اہم سنگِ میل معذور افراد کی میڈیکل و ڈینٹل تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل میں شمولیت سے متعلق جامع رہنما اصولوں کا اجرا ہے۔ یہ اقدامات قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہیں، جن میں United Nations کے تحت کنونشن برائے حقوقِ معذوراں (UNCRPD)، World Health Organization کا گلوبل ڈس ایبلٹی ایکشن پلان، اور World Federation for Medical Education (WFME) کے معیارات شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تعلیم بنیادی حق ہے اور اسے صنف یا جسمانی معذوری کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا، بشرطیکہ پیشہ ورانہ اہلیت اور مریضوں کی حفاظت متاثر نہ ہو۔
نظرِ ثانی شدہ ضابطے کے تحت تسلیم شدہ میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں 2 سے 5 فیصد معذوری کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ داخلہ فنکشنل کیپسٹی اسیسمنٹ کے ذریعے طے ہوگا، ساتھ ہی مروجہ تعلیمی معیار، بشمول MDCAT اور ایف ایس سی/آئی بی سی سی مساوات، لازمی ہوں گے۔ پریکٹس اور لائسنس کے لیے اہلیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امیدوار بنیادی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں محفوظ اور مؤثر انداز میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو، جبکہ مناسب سہولیات جیسے معاون ٹیکنالوجی، موافق تربیتی ماحول، قابلِ رسائی سہولیات اور امتحانی انتظامات فراہم کیے جائیں گے۔
شفاف اور معیاری جائزے کو یقینی بنانے کے لیے پی ایم ڈی سی وفاقی اور صوبائی سطح پر کثیر الشعبہ میڈیکل فٹنس بورڈز قائم کرے گی، جن میں متعلقہ ماہرین اور معذور افراد کے حقوق کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ بورڈز فنکشنل اسیسمنٹ، موزوں شعبہ جات کی سفارش، لائسنس کے لیے فٹنس کی تصدیق اور اپیل کے منظم نظام کی فراہمی کے ذمہ دار ہوں گے۔ ہر پانچ سال بعد نظرِ ثانی کا نظام مسلسل اہلیت اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے اعادہ کیا کہ شمولیت اصول اور قانون دونوں کا تقاضا ہے، تاہم مریضوں کی حفاظت ہمیشہ مقدم رہے گی۔ کسی امیدوار کو صرف معذوری کی بنیاد پر محروم نہیں کیا جائے گا، البتہ باقاعدہ جائزہ اس کی عملی صلاحیت کا تعین کرے گا۔ تمام تسلیم شدہ اداروں کو ڈس ایبلٹی سپورٹ یونٹس قائم کرنے، فیکلٹی کو جامع تربیت دینے اور سالانہ تعمیلی رپورٹس جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ عدم تعمیل یا حفاظتی امور سے متعلق معلومات چھپانے پر ریگولیٹری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نظرِ ثانی شدہ ضابطۂ اخلاق فوری طور پر نافذ العمل ہے اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی باقاعدہ نظام کے تحت کی جائے گی۔ اس اصلاح کو پاکستان میں صحت کے شعبے کی حکمرانی کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے صدر پی ایم ڈی سی نے عزم ظاہر کیا کہ کونسل اخلاقی معیارات کے فروغ، جامع فضیلت کے قیام اور ہر مریض کو محفوظ، باوقار اور معیاری علاج کی فراہمی کے لیے پُرعزم رہے گی۔ |
|