|
|
چھاتی کا کینسر دنیا بھر میں خواتین میں سب سے زیادہ تشخیص ہونے والے سرطان کی اقسام میں سے ایک ہے۔ اس حوالے سے ایک تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050 تک اس کے کیسز کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔
زیادہ آمدنی والے ممالک میں اسکریننگ، ابتدائی تشخیص اور علاج پر دہائیوں تک کی جانیوالی سرمایہ کاری کے باعث 1990 سے 2023 کے درمیان ان ملکوں میں بریسٹ کینسر سے اموات میں شرح تقریباً 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ تاہم غریب ممالک میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ جہاں مذکورہ بالا عرصے کے دوران چھاتی کے سرطان سے اموات کی شرح تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔
معروف طبی جریدے دی لانسٹ آنکولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران 204 ممالک اور خطوں میں بریسٹ کینسر کے رجحانات کے تجزیے سے دنیا بھر میں خواتین میں سب سے عام پائے جانے والے کینسر سے متعلق زندہ رہنے اور موت کے درمیان عالمی سطح پر خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔
اس تحقیقی ٹیم کی سینئر مصنفہ اور یونیورسٹی آف واشنگٹن اسکول آف میڈیسن کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر لیزا فورس نے کہا کہ وقت کے ساتھ امیر ممالک میں شرحِ اموات میں کمی جبکہ غریب ملکوں میں اضافہ ہوا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس سال دنیا بھر میں خواتین میں تشخیص ہونے والے ہر چار میں سے تقریباً ایک بریسٹ کینسر کیس تھا۔ سب صحارن افریقہ میں صورتِ حال خاص طور پر تشویشناک ہے جہاں شرح اموات عالمی اوسط سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرخ گوشت کے استعمال کو محدود کرنا سب سے مؤثر طرز زندگی میں تبدیلی ہے، اس کے بعد ترک تمباکو نوشی، بلڈ شوگر کنٹرول، صحت مند وزن برقرار رکھنا اور جسمانی طور پر متحرک رہنا شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق طرز زندگی میں تبدیلیاں چھاتی کے کینسر کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں کیونکہ چھاتی کے کینسر کی زیادہ تر وجوہات کا تعلق طرزِ زندگی سے نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین 40 سال کی عمر کے بعد ہر دو سال بعد میموگرام کروائیں اور یہ سلسلہ 74 سال کی عمر تک جاری رکھیں۔
جو بھی خاتون چھاتی کے کینسر کے بارے میں فکرمند ہوں یا زیادہ خطرے کے زمرے میں آتی ہو، مثلاً جن کے خاندان میں اسکی تاریخ ہو یا موٹاپا ہو، انہیں اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ مزید برآں خود معائنہ (سیلف ایگزام) جو پہلے عام طور پر تجویز کیا جاتا تھا، اب معیاری رہنما اصولوں کا حصہ نہیں رہا۔ |
|