|
|
فائل فوٹو
ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی تازہ رپورٹ نے دنیا بھر میں بچوں میں بڑھتے موٹاپے کے بحران پر خبردار کردیا۔
رپورٹ کے مطابق اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک 5 سے 19 سال کے تقریباً 22 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 2040 تک تقریباً 12 کروڑ اسکول جانے والے بچے مستقل اور دائمی بیماریوں کی ابتدائی علامات ظاہر کریں گے، جن میں دل کے امراض اور ذیابیطس شامل ہیں۔ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے۔
یہ بھی پڑھیے
- پاکستان میں 54 لاکھ بچے موٹاپے کا شکار ہیں، ماہرین
- موٹاپا سنگین متعدی بیماریوں کا خطرہ 70 فیصد بڑھا دیتا ہے، نئی تحقیق
چین سب سے زیادہ متاثر ہے، جہاں 6.2 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ بھارت میں یہ تعداد 4.1 کروڑ اور امریکہ میں 2.7 کروڑ ہے۔
یورپ میں سب سے زیادہ بحران برطانیہ میں ہے، جہاں 38 لاکھ بچوں کا BMI خطرناک حد تک بلند ہے۔
ماہرین کی رائے
ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی سربراہ جوہانا رالسٹن نے کہا، ’ایک پوری نسل کو موٹاپے اور مہلک بیماریوں کے حوالے کر دینا درست نہیں۔‘
عالمی ادارہ صحت کے ماہر ڈاکٹر کریملن وکرما سنگھے نے کہا کہ زیادہ تر حکومتیں فوڈ انڈسٹری کو بچوں کو نشانہ بنانے سے نہیں روک رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی عزم اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔
نتیجہ
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں شدید صحت کے بحران کا سامنا کریں گی۔ |
|