نئی امریکی تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال سے کوکین اور الکوحل جیسی منشیات کی لت اور ان سے ہونے والی اموات کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔
طبی جریدے بی ایم جے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق GLP-1 ایگونِسٹ نامی مقبول ادویات نقصان دہ مادوں کے باعث ہونے والی اموات کے خطرے کو تقریباً 50 فیصد تک کم کر سکتی ہیں، تاہم بعض ماہرین نے نتائج کی تشریح میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ یہ تحقیق براہِ راست سبب اور نتیجے کا تعلق ثابت نہیں کرتی۔
ماہرین کے مطابق اس حوالے سے مزید کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں اوزیمپک جیسی GLP-1 ادویات نے ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں بڑی تبدیلی پیدا کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان ادویات میں مختلف صحت کے مسائل، بشمول منشیات کی لت میں ممکنہ مدد کے آثار بھی سامنے آئے ہیں۔
سوشل میڈیا کے غذائی رجحانات موٹاپے کو کیسے بڑھا رہے ہیں؟
دنیا بھر میں آج موٹاپے سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا...
امریکی محققین نے امریکی محکمہ برائے سابق فوجیوں کے امور کے ہیلتھ کیئر ڈیٹا بیس میں موجود 6 لاکھ سے زائد ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا، ان افراد نے یا تو GLP-1 ادویات استعمال کیں یا ذیابیطس کی پرانی نوعیت کی ادویات لی تھیں۔
محققین نے 3 سال کے عرصے میں الکوحل، بھنگ، کوکین اور نکوٹین سمیت مختلف منشیات کے اثرات کا بھی جائزہ لیا۔
نتائج کے مطابق جن سابق فوجیوں کو پہلے سے منشیات کی لت تھی، ان میں GLP-1 ادویات لینے والوں میں اموات کی شرح 50 فیصد کم اور اوور ڈوز کے واقعات 40 فیصد کم پائے گئے۔
اسی طرح ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے دوروں کی شرح 30 فیصد سے کم رہی، جبکہ اسپتال میں داخلوں اور خودکشی کے خیالات یا کوششوں میں بھی تقریباً 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔
دوسری جانب ایسے سابق فوجی جنہیں کبھی منشیات کی لت نہیں رہی، ان میں GLP-1 ادویات کے استعمال سے مستقبل میں لت پیدا ہونے کا خطرہ 14 فیصد کم دیکھا گیا۔
واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرِین کے مطابق یہ بات کافی حیران کن تھی کہ GLP-1 ادویات مختلف اقسام کی منشیات کی لت کو روکنے سے وابستہ دکھائی دیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اثر کسی ایک مادے تک محدود نہیں تھا بلکہ تقریباً تمام نشہ آور اشیاء میں دیکھا گیا، تاہم تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس لیے یہ براہِ راست ثابت نہیں کرتی کہ نتائج کی وجہ یہی ادویات ہیں۔
یہ بھی ابھی واضح نہیں کہ بھوک کم کرنے والی یہ ادویات کس طرح نشے کی لت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، البتہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ادویات دماغ میں خوشی یا انعام دلانے کے احساس کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
خواتین میں طویل العمری کیلئے پٹھوں کی مضبوطی کتنی ضروری؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقت اور مسلز حجم بڑھانے کے لیے جم جانا لازمی نہیں
محققین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ تحقیق میں شامل زیادہ تر افراد عمر رسیدہ سفید فام مرد تھے، اگرچہ نتائج خواتین میں بھی تقریباً یکساں نظر آئے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات عملی نوعیت کے ہیں، انقلابی نہیں۔
ماہرین نے بی ایم جے میں شائع ہونے والے ایک اداریے میں کہا ہے کہ پالیسی سازوں کو قبل از وقت نشے کے علاج کے لیے اوزیمپک جیسے بیانیے سے گریز کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق اگر آئندہ کلینیکل ٹرائلز سے بھی یہ ثابت ہو جائے کہ یہ ادویات نشے کی لت کے خلاف مؤثر ہیں، تب بھی ان کی زیادہ قیمت اور دنیا کے تمام ممالک میں محدود دستیابی ایک بڑا مسئلہ رہیں گے۔