Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 998|Reply: 0

میری موت کے ذمے دار میرے والدین ہوں گے: بھارتی یوٹیوبر کی ویڈیو جاری

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
209216
Post time 2026-3-6 19:28:36 | Show all posts |Read mode
  
—کولاج بشکریہ بھارتی میڈیا

مشہور بھارتی یوٹیوبر انوراگ دوبھال نے سوشل میڈیا پر ایک تشویش ناک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اُنہوں نے اپنے والدین پر ہراسانی اور ذہنی دباؤ ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

ریئلٹی شو بگ باس 17 کے کنٹسٹنٹ انوراگ دوبھال نے 2 گھنٹوں پر مبنی طویل ویڈیو یوٹیوب پر شیئر کی ہے جس میں اُنہوں نے روتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے میری زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے اور میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔

ویڈیو میں یوٹیوبر نے دعویٰ کیا ہے کہ میرے والدین میری شادی کو قبول نہیں کر رہے۔   
بھارت: خاتون یوٹیوبر کی خودکشی، جان لینے سے قبل والدہ کو کیا پیغام بھیجا؟

بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں 21 سالہ یوٹیوبر اور سائنس کی طالبہ بونو کوملی اپنے کرائے کے فلیٹ میں مردہ پائی گئی۔   

انوراگ دوبھال نے بتایا ہے کہ میں نے اپنی گرل فرینڈ ریتیکا سے تقریباً دو سال کے تعلق کے بعد گزشتہ سال مئی میں شادی کی تھی تاہم میرا خاندان اس رشتے کے خلاف تھا۔

یوٹیوبر کا کہنا ہے کہ شادی سے چند دن پہلے میرے والدین نے مجھے کہا کہ میں اپنی شادی کے تمام انتظامات خود کروں، مجھے رشتے داروں کے سامنے معافی مانگنے اور والدین کے قدموں میں جھکنے پر مجبور بھی کیا گیا۔

انوراگ نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ میں شدید ڈپریشن کا شکار ہوں اور گزشتہ 5 دن سے میں نے کچھ کھایا نہیں ہے، میں اس ویڈیو کے بعد غائب بھی ہو سکتا ہوں، اس لیے میں اپنی ممکنہ موت کا ذمے دار اپنے والدین اور کچھ قریبی رشتے داروں کو ٹھہرا رہا ہوں۔

انوراگ دوبھال نے اپنے یوٹیوب وی لاگ میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اب میری اہلیہ ریتیکا مجھ سے الگ ہو چکی ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ فی الحال اس معاملے پر یوٹیوبر کے خاندان یا دیگر متعلقہ افراد کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-4-18 17:15 GMT+5 , Processed in 0.046586 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list