امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’آج ایران کو بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کے ’خراب رویے‘ کی وجہ سے اب ایسے علاقوں اور گروہوں کو بھی نشانہ بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے جنہیں اس سے پہلے ہدف بنانے پر غور نہیں کیا گیا تھا۔
پڑوسی ممالک کیخلاف حملے نہیں کیے جائیں گے: ایرانی صدر
عبوری لیڈرشپ کونسل نے پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملہ نہ کرنے کی منظوری دے دی ہے: مسعود پزشکیان
امریکی صدر نے کہا کہ مسعود پزشکیان نے اپنی تقریر میں معذرت کی اور مشرق وسطیٰ کے پڑوسی ممالک کے سامنے ’ہتھیار ڈال دیے‘ اور وعدہ کیا کہ ایران اب ان پر فائرنگ نہیں کرے گا، ان کی جانب سے یہ وعدہ صرف اس لیے کیا گیا کیونکہ امریکا اور اسرائیل کے مسلسل حملے جاری ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اب ’مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ‘ نہیں رہا بلکہ ’مشرقِ وسطیٰ کا ہارنے والا‘ بن چکا ہے اور کئی دہائیوں تک ایسا ہی رہے گا جب تک وہ ہتھیار نہیں ڈال دیتا یا مکمل طور پر تباہ نہیں ہو جاتا۔