Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 243|Reply: 0

بڑے تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا کلچر، انفلوئنسر نے راز فاش کردیا

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
208489
Post time 2026-3-10 03:52:05 | Show all posts |Read mode
پاکستان کے نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسر عبدالرحمان عاصم نے آرٹس کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں میں مبینہ بُلنگ کے کلچر سے متعلق انکشاف کرکے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

عبدالرحمان عاصم گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا پر اپنی منفرد اور حقیقت سے قریب مواد کی بدولت مقبول ہوئے۔ ان کی ویڈیوز خاص طور پر نوجوان نسل میں کافی پسند کی جاتی ہیں۔ سر پر رکھا ہوا ان کا مخصوص سرمئی تولیہ اور روزمرہ زندگی کے عام مگر دلچسپ موضوعات کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنا ان کی پہچان بن چکا ہے، جس نے لاکھوں ناظرین کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔

حال ہی میں انہوں نے خوشی کے ساتھ بتایا تھا کہ انہیں اپنی خوابوں کی یونیورسٹی نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں داخلہ مل گیا ہے جہاں وہ فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے داخلے کی ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی تھی جسے سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی۔
          View this post on Instagram                       


تاہم چند ہی ہفتوں بعد انہوں نے ایک نئی ویڈیو میں اعلان کیا کہ وہ اپنی اسی خوابوں کی درسگاہ کو چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے اس فیصلے نے مداحوں کو حیران کر دیا اور بہت سے لوگوں نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔

بعد ازاں عبدالرحمان عاصم نے ایک ویڈیو کے ذریعے کھل کر بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے اندر بُلنگ کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے مطابق ادارے کے ماحول کا حصہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں ذہنی طور پر بہت متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

          View this post on Instagram                       


ان کے انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر بھی کئی افراد نے اپنی کہانیاں بیان کرنا شروع کر دیں۔ متعدد صارفین نے کہا کہ انہوں نے بھی تعلیمی اداروں میں اسی طرح کے رویوں کا سامنا کیا ہے۔

پاکستانی اداکاراؤں درافشاں سلیم اور دانیہ انور نے بھی عبدالرحمان عاصم کی ہمت کی تعریف کی اور کہا کہ ایسے مسائل پر بات کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ بُلنگ کے باعث انہیں اپنی تخلیقی سرگرمیاں تک چھوڑنا پڑیں، جبکہ کچھ نے یہ بھی کہا کہ ادارے میں بعض اساتذہ اور عملے کے رویوں پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔



  

عبدالرحمان عاصم کی ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر تعلیمی اداروں میں بُلنگ اور ریگنگ کے مسئلے پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور بہت سے لوگ اس معاملے پر کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔

عبدالرحمان نے اپنی اگلی پوسٹوں میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے انھیں اس معاملے پر سپورٹ کیا۔

  

You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-3-9 23:26 GMT+5 , Processed in 0.047228 second(s), 22 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list