|
|
تصویر، فیس بک
پاکستان نے مزید موثر، جدید اور مضبوط دولت مشترکہ پر زور دیا ہے اور کہا کہ ایسے دولت مشترکہ کی ضرورت ہے، جو پیچیدہ عالمی ماحول میں زیادہ فعال ہو۔
لندن میں دولت مشترکہ کے 26ویں وزرائے خارجہ اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی نمائندگی پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل نے کی۔ اسحاق ڈار موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث اجلاس میں شرکت نہ کرسکے۔
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ایسے دولتِ مشترکہ کی ضرورت ہے، جو پیچیدہ عالمی ماحول میں زیادہ فعال ہو، موجودہ عالمی صورتحال میں تقسیم اور جغرافیائی سیاسی تناؤ نمایاں ہے۔
انہوں نے تنظیموں کے اندر نئے طاقت کے مراکز قائم کرنے کے رجحان پر خبردار کیا اور کہا کہ سیکریٹری جنرل کی اصلاحاتی تجاویز پر رکن ممالک کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا کہ یہ لمحہ ایک چیلنج اور موقع بھی ہے کہ دولت مشترکہ اپنی اہمیت اور مقصد ازسرنو اُجاگر کرے، دولتِ مشترکہ کو ایسے عملی نتائج پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو براہِ راست اس کے عوام کے لیے فائدہ مند ہوں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ان میں معاشی استحکام کو مضبوط بنانا، تجارت میں سہولت فراہم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا، قرضوں کے پائیدار انتظام کے مسائل سے نمٹنا اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانا شامل ہیں۔
پاکستانی ہائی کمشنر نے یہ بھی کہا کہ دولتِ مشترکہ کے وزرائے خارجہ اور رہنماؤں کو رکن ممالک کے درمیان بامعنی تعاون کو فروغ میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ رکن ممالک بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور دولتِ مشترکہ کو یکجہتی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بنائیں۔ |
|