روسی صدر پیوٹن نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارک باد دیتے ہوئے روس کی جانب سے غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے۔
یہ اہم سفارتی پیش رفت 9 مارچ 2026ء کو سامنے آئی، جب روس نے باضابطہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر تسلیم کر لیا، ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔
کریملن کی جانب سے بھیجے گئے تہنیتی پیغام میں پیوٹن نے 56 سالہ عالمِ دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں جب ایران کو مسلح جارحیت کا سامنا ہے، اس اعلیٰ عہدے پر آپ کی ذمے داریاں بہت زیادہ ہمت اور عزم کا تقاضہ کریں گی۔
پیوٹن کا ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ، جنگ کے فوری خاتمے پر مشاورت
ماسکو روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر...
روسی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ روس اور ایران کے درمیان شراکت داری ماسکو کے لیے بدستور اہم ہے۔
پیوٹن کے مطابق مجھے یقین ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو باوقار انداز میں آگے بڑھائیں گے اور مشکل حالات میں ایرانی عوام کو متحد رکھیں گے۔
پیغام کے اختتام پر پیوٹن نے یقین دہانی کرائی کہ روس اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار تھا اور رہے گا۔