امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سُپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر ردعمل دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کر دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب مایوس کن ہے، اس طرح کی قیادت خطے میں استحکام کے لیے مثبت پیش رفت نہیں سمجھی جا سکتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تہران کے پاس طویل عرصے تک امریکا، اسرائیل اور امریکی اتحادیوں کے خلاف استعمال کے لیے کوئی مؤثر ہتھیار نہیں رہیں گے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی بطور سپریم لیڈر نامزدگی پر باقاعدہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا اور مختصر ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔
مجبتیٰ خامنہ ای کی بطور سپریم لیڈر نامزدگی، ٹرمپ کا تبصرے سے گریز
اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس تقرری پر تفصیلی تنقید کرنے سے انکار کیا۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ ختم کرنے کا فیصلہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ اتفاقِ رائے سے کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میری نیتن یاہو سے بات ہوئی ہے، فیصلہ درست وقت پر کریں گے۔