متحدہ عرب امارات کے بھارت میں پہلے سفیر حسین حسن مرزا—فائل فوٹو
متحدہ عرب امارات کے بھارت میں پہلے سفیر حسین حسن مرزا کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ایک فون کال اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے حسین حسن مرزا نے کہا کہ بھارت کا عالمی اثر و رسوخ اور وزیر اعظم مودی کے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک بڑی طاقت ہے اور صرف مسٹر مودی کی ایک فون کال اسرائیل اور ایران دونوں کو جنگ روکنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ
مشرقی تہران کے علاقے رسالت اسکوائر کے قریب حملے میں کم از کم 40 افراد شہید ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار بھی رہا ہے، اس لیے بھارت اس تنازع میں سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔
سابق سفیر نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ بھارت خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں کرے گا، خصوصاً اس لیے کہ یو اے ای میں 35 لاکھ سے زائد بھارتی شہری مقیم ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں سے ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امارات نے اپنی سر زمین کو ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی، دیگر خلیجی ممالک جیسے کویت اور قطر نے بھی اپنی سر زمین سے ایران پر حملوں کی اجازت نہیں دی۔