مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے پھیلائی جانے والی غلط معلومات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق مکمل طور پر جعلی تصاویر کے علاوہ اب ایک اور رجحان سامنے آیا ہے جس میں حقیقی تصاویر کو اے آئی کے ذریعے بہتر بنا کر اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے کہ زمینی حقائق کی تصویر بدل جاتی ہے۔
ایک وائرل تصویر میں ایک امریکی پائلٹ کو دکھایا گیا جو طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے اترنے کے بعد ایک مقامی کویتی شہری کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا نظر آتا ہے۔
یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی اور کچھ میڈیا اداروں نے بھی اسے شائع کیا، تاہم تصویر میں پائلٹ کے ہاتھ میں 4 انگلیاں نظر آئیں جس نے اس کی صداقت پر سوال اٹھا دیا۔
خبر رساں ادارے کی تحقیق کے مطابق تصویر میں گوگل اے آئی کے سسٹم کا مخصوص واٹرمارک (SynthID) موجود تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تصویر کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل یا بہتر کیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ واقعہ خود حقیقی معلوم ہوتا ہے، اسی منظر کی ایک ویڈیو 2 مارچ کو سوشل میڈیا پر گردش کرتی نظر آئی جبکہ سیٹلائٹ تصاویر سے بھی مقام کی تصدیق ہوئی، یہ واقعہ ان خبروں سے بھی مطابقت رکھتا ہے جن کے مطابق اسی روز کویت نے غلطی سے امریکی فضائیہ کے 3 طیارے مار گرائے تھے۔
12 گھنٹوں میں 900 حملے: کیا مصنوعی ذہانت جنگ کے قواعد بدل رہی ہے؟
دنیا بھر کے محاذوں پر مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ہتھیاروں کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے
ماہرین کے مطابق اے آئی کے ذریعے تصویر کو بہتر بنانے سے چہرے، روشنی، رنگ اور پس منظر میں ایسی تبدیلیاں آ سکتی ہیں جو تصویر کو اصل سے زیادہ حقیقت پسندانہ بنا دیتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں واقعے کی اصل نوعیت بدل سکتی ہے۔
اسی طرح ایک اور تصویر میں عراق کے شہر اربیل کے ایئرپورٹ کے قریب ایک بہت بڑا دھماکا اور آگ دکھائی گئی، جسے ایران کے حملے کے بعد شیئر کیا گیا تھا، تاہم اصل تصویر میں آگ اور دھواں کافی کم شدت کا تھا جبکہ اے آئی کے ذریعے اسے زیادہ ڈرامائی بنا دیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹی سی تبدیلی بھی کسی واقعے کی مکمل کہانی بدل سکتی ہے اور لوگوں کے ذہن میں مختلف تاثر پیدا کر سکتی ہے۔
مزید یہ کہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات ایسی چیزیں بھی تصویر میں شامل کر دیتی ہے جو اصل میں موجود نہیں ہوتیں، مثال کے طور پر امریکا کے شہر مینا پولیس میں ایک فائرنگ کے واقعے کی اے آئی سے بہتر بنائی گئی تصویر میں ایک شخص کے ہاتھ میں موجود موبائل فون کو بعض صارفین نے ہتھیار سمجھ لیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسی تصاویر کو واضح طور پر لیبل نہ کیا جائے تو اس سے عوام کا سچائی پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے اور لوگ اصل تصاویر پر بھی شک کرنے لگتے ہیں۔