|
|
برطانیہ کی رکنِ پارلیمنٹ ناز شاہ نے بریڈ فورڈ لٹریچر فیسٹیول کے موقع پر اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’آنرڈ‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد کی، جس میں کہانی، حوصلے اور امید کے موضوعات نمایاں رہے۔
یہ تقریب انٹرنیشنل ویمنز ڈے کے موقع پر بریڈ فورڈ کے مڈلینڈ ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں تقریباً 300 سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں کمیونٹی رہنما، معزز شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد شامل تھی۔
تقریب میں ویسٹ یارکشائر کی ڈپٹی میئر برائے پولیسنگ اینڈ کرائم ایلیسن لو، بشپ آف بریڈ فورڈ ٹوبی ہاوارتھ، رکنِ پارلیمنٹ اینا ڈکسن، رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی، لارڈ واجد خان آف برنلے، شیخ عبدالحَق بیولی اور اولڈہم میٹرو پولیٹن بورو کونسل کی رہنما ارووج شاہ سمیت دیگر نمایاں شخصیات موجود تھیں۔
اس موقع پر خطاب میں ناز شاہ نے کہا کہ کہانیاں سنانے اور ثقافت پر بات کرنے سے دوسروں کو بھی اپنی کہانی بیان کرنے کا حوصلہ ملتا ہے، اس سے نوجوانوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو سکتی ہیں تو دوسرے بھی اپنے خواب پورے کر سکتے ہیں۔
تقریب کے دوران میزبان صباح چوہدری کے ساتھ گفتگو میں ناز شاہ نے بریڈفورڈ میں اپنے بچپن، اپنی والدہ پر ہونے والے گھریلو تشدد اور ان کے لیے انصاف کی جدوجہد کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ میں اپنے سیاسی سفر اور بریڈفورڈ ویسٹ کے عوام کی خدمت کے عزم پر بھی روشنی ڈالی۔
ناز شاہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ قرآن مجید میرے لیے خواتین کے حقوق کی رہنما کتاب ہے، جس نے مجھے ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے اور گھریلو تشدد جیسے مسائل کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے خواتین اور مردوں دونوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا اور ایسے مردوں کا شکریہ ادا کیا، جو صنفی امتیاز کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر افطار کا اہتمام بھی کیا گیا، جس میں شرکاء نے روزہ کھولتے ہوئے باہمی یکجہتی اور غور و فکر کے ماحول میں شرکت کی۔
ناز شاہ نے کہا کہ اپنی کتاب کی رونمائی اپنے آبائی شہر بریڈفورڈ میں کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے، جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں اور گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے عوامی خدمت انجام دے رہی ہیں۔ |
|