ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی آپریشن ایپک فیوری دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا، تاہم اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اس کارروائی کو جلد ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے کئی قریبی مشیر نجی طور پر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اب ایک واضح حکمتِ عملی کے تحت امریکا کو اس جنگ سے نکالنے کا منصوبہ پیش کیا جائے۔
مشیروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج بڑی حد تک اپنے مقاصد حاصل کر چکی ہے، اس لیے مزید طویل کارروائی کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر جانے کے بعد امریکی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی سامنے آیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن میں پالیسی سازوں کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی بڑی تعداد اس فوجی کارروائی کے خلاف ہے اور 53 فیصد ووٹرز ایران کے خلاف امریکی حملوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکا ایران جنگ: واشنگٹن کا اصل ہدف کیا ہے؟
ایران، امریکا اور اسرائیل کی جنگ اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے
رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے کئی رہنماؤں نے بھی وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر کے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ جنگ آئندہ وسطِ مدتی انتخابات پر منفی سیاسی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ فلوریڈا میں پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ فوجی کارروائی محدود کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اس تنازع کو ایک مختصر مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن توقع سے کہیں پہلے اپنے اہداف حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور جنگی مقاصد بڑی حد تک مکمل ہو چکے ہیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اب فوجی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بڑھتی ہوئی ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے دباؤ کو بھی مدِنظر رکھ رہی ہے۔