سوال: کیا فطرانہ کی رقم مسجد کی تعمیر میں دے سکتے ہیں؟
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب: صدقۃ الفطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے۔
زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ (مثلاً: نذر، کفارہ، فدیہ اور صدقۂ فطر) ادا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بنا کر دیا جائے، اس لیے مسجد کی تعمیر وغیرہ پر صدقۂ فطر کی رقم نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی۔
نماز میں خيالات کا آنا کیسا ہے؟
اس حوالے سے مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری نے جواب دیا ہے۔
باقی نفلی صدقات و عطیات تعمیراتی کاموں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں اور ان سے مسجد کی ضرورت کی اشیاء خریدی جا سکتی ہیں۔ (فتاویٰ ہندیہ، کتاب الزکوٰۃ، الباب السابع فی المصارف، ج:1،ص:188، ط: رشیدیہ - فتاوی شامی، کتاب الزکوٰۃ ،باب المصرف ،ج:2،ص:334،ط، دار الفکربیروت)