Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 20|Reply: 0

امریکا میں آزادیٔ صحافت میں زبردست کمی کا انکشاف

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
209018
Post time 2026-3-11 15:49:42 | Show all posts |Read mode
  
---فائل فوٹو

امریکی خطے میں صحافتی آزادی کی صورتِ حال مزید خراب ہو گئی ہے جبکہ امریکا میں سب سے زیادہ تنزلی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ انکشاف ’انٹر امیریکن پریس ایسوسی ایشن‘ کی تازہ پریس فریڈم انڈیکس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024ء صحافت کے لیے خطے کا بدترین سال ثابت ہوا جہاں صحافیوں کے قتل، من مانی گرفتاریوں، جلاوطنی اور سزا سے استثنیٰ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں خاص طور پر میکسیکو، ہونڈوراس، ایکواڈور، نکاراگوا، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، کولمبیا، کیوبا اور وینزویلا کو خطرناک ممالک قرار دیا گیا ہے۔
امریکا میں آزادیٔ صحافت میں تشویشناک کمی   
ٹرمپ کے میڈیا اداروں پر مقدمے، امریکا میں آزادی صحافت خطرے میں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پے در پے میڈیا آؤٹ لیٹ پر مقدمے کے باعث امریکا میں آزادی صحافت خطرے میں ہے۔   

رپورٹ کے مطابق امریکا کی درجہ بندی 23 ممالک میں چوتھے نمبر سے گر کر گیارہویں نمبر پر آ گئی، اس کمی کی بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران پالیسی میں تبدیلیاں قرار دی گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا میں صحافت آئینی طور پر محفوظ ہے تاہم گزشتہ سال حفاظتی نظام کمزور ہوا ہے، اس ضمن میں تنقیدی صحافت کے خلاف بیانیہ، سرکاری میڈیا فنڈنگ میں کمی اور سرکاری نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی بندش کو اہم عوامل بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا میں گزشتہ سال صحافیوں پر حملوں کے 170 واقعات ریکارڈ کیے گئے جبکہ وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ تنازعات بھی تشویش کا باعث بنے۔
وینزویلا اور نکاراگوا بدترین ممالک

رپورٹ میں وینزویلا اور نکاراگوا کو اظہارِ رائے کی آزادی سے محروم ممالک قرار دیا گیا ہے۔

وینزویلا میں 2024ء کے صدارتی انتخابات کے بعد 400 سے زائد ریڈیو اسٹیشن بند کیے گئے اور 25 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔  

وینزویلا کا اسکور 100 میں سے صرف 7.02 رہا۔
ایل سلواڈور میں صحافیوں کی جلاوطنی   
امریکی اخبار کی صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے پر سخت تنقید

امریکا کے ایران پر حملے پر امریکی اخبار نے سخت تنقید کی اور اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر ذمے دارانہ اقدام قرار دیا ہے۔   

ایل سلواڈور کی درجہ بندی بھی مزید گر کر 21 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے، صحافتی تنظیم کے سربراہ سرجیو اراوز کے مطابق ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے کی حکومت کے دوران دباؤ میں اضافہ ہوا اور گزشتہ سال 50 صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022ء سے نافذ ہنگامی حالت اور غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق نئے قانون نے اظہارِ رائے اور صحافت کو مزید محدود کیا ہے۔
بہترین کارکردگی والے ممالک

پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق ڈومینیکن ریپبلک، چلی، کینیڈا اور برازیل صحافتی آزادی کے تحفظ میں سرِفہرست ممالک میں شامل رہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سیاسی نظریات کے سبب پورے خطے میں آزادیٔ صحافت دباؤ کا شکار ہے اور صحافیوں کے لیے حالات تیزی سے مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-3-11 11:46 GMT+5 , Processed in 0.046608 second(s), 22 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list