Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 459|Reply: 0

بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت دیدی

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
209216
Post time 2026-3-11 17:47:26 | Show all posts |Read mode
  
---فائل فوٹو

بھارت میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے 13 سال سے کومے میں زندگی گزارنے والے نوجوان کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے ہرش رانا نامی 31 سالہ شخص کے والدین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریض کی حالت میں بہتری کی کوئی امید نہیں، اس لیے انسانی وقار کو مدِنظر رکھتے ہوئے لائف سپورٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔

عدالت کا یہ فیصلہ جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس  کے وی وشواناتھن پر مشتمل بینچ نے سنایا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لائف سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ دو بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ علاج کو طبی مداخلت تصور کیا جائے اور یہ فیصلہ مریض کے بہترین مفاد میں ہو۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈاکٹر کا فرض مریض کا علاج کرنا ہے، مگر جب صحت یابی کی کوئی امید نہ رہے تو یہ ذمے داری اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔

عدالت نے ہدایت دی کہ مریض کو اسپتال میں پالی ایٹو کیئر کے تحت رکھا جائے اور لائف سپورٹ باعزت طریقے سے مرحلہ وار ختم کیا جائے۔   
بھارتی سپریم کورٹ نے ’روح افزا‘ کو بڑا ریلیف دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے معروف مشروب روح افزاء کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسے ’فروٹ ڈرنک‘ قرار دے دیا ہے جس کے بعد اس پر زیادہ ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکے گا۔   

سپریم کورٹ نے موجودہ فیصلے میں حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اس حوالے سے واضح قانون سازی پر غور کیا جائے۔
نوجوان کو حادثہ کیسے پیش آیا؟

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہرش رانا 2023ء میں یونیورسٹی کے طالب علم تھے اس دوران وہ ایک عمارت کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں شدید دماغی چوٹ کے باعث وہ مستقل ویجیٹیٹو اسٹیٹ میں چلے گئے۔

اس کے بعد سے وہ بستر تک محدود رہے، سانس لینے کے لیے ٹریکیوسٹومی ٹیوب اور خوراک کے لیے فیڈنگ ٹیوب پر انحصار کرتے رہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-4-18 15:25 GMT+5 , Processed in 0.050044 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list