|
|
—فائل فوٹو
پنجاب حکومت نے ایک انتہا پسند جماعت پر پابندی کے لیے وفاق کو سفارش بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولیس افسران کی شہادت، سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنماؤں اور کارکنوں پر مقدمات چلیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے گا، قائدین کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
- پنجاب: ایک ماہ میں غیرقانونی اسلحہ جمع کروانے کا الٹی میٹم جاری، سزا میں اضافے کی بھی منظوری
- پنجاب حکومت کا صوبے میں 10 روز کیلئے دفعہ 144 کا نفاذ
اعلامیے کے مطابق انتہا پسند جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دی جائیں گی، تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ایک ماہ میں غیرقانونی اسلحہ جمع کروانے کا الٹی میٹم جاری کردیا گیا۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ایک ماہ کے اندر شہری اپنے قانونی اسلحے کو خدمت مرکز سے رجسٹر کرائیں گے، جبکہ اسلحہ فروشوں اور تمام ڈیلرز کے اسٹاک کا معائنہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
پنجاب میں نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر مکمل پابندی کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے اسلحہ فیکٹریز اور مینوفیکچررز کو ریگولرائز کرنے کی سفارش کی ہے۔ |
|