سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اس وقت ہم کوئی بیان نہیں دے سکتے کہ آگ کیسے لگی۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران شرجیل میمن نے کہا کہ گزشتہ رات جیسے ہی مارکیٹ میں آگ لگی، ریسکیو عملہ وہاں پہنچ گیا۔
گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 لوگ جاں بحق ہوئے، 58 افراد ابھی تک لا پتہ ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جن کے پیارے دنیا سے چلے گئے ہیں، اُن کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری، کمشنر، ڈی آئی جی سب لوگ وہاں موجود تھے، اس وقت بھی عمارت میں لگی آگ کو بجھانے کا عمل جاری ہے۔
سینئر وزیر سندھ نے مزید کہا کہ سب سے پہلا کام ریسکیو کا عمل مکمل کرنا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نےکمشنر کراچی کو کہا ہے تحقیقات کریں کہ آگ لگی کیسے، کس طرح پھیلی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ آگ لگنے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد ریسکیو عملہ پہنچا، جو مارکیٹ کے قریب فائر ٹینڈر تھی وہ جلدی پہنچی تھی۔
گل پلازا آتشزدگی، 1500 دکانوں میں بیک وقت آگ بھڑکی، چیف فائر آفیسر ہمایوں
محکمہ فائر بریگیڈ کے اعلیٰ حکام کا موقف ہے کہ گل پلازا کی 1500 سے زائد دکانوں میں بیک وقت آگ بھڑکی۔
شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ پانی کے لیے بھی ٹینکرز منگوا لیے گئے تھے، ابھی بھی ٹینکرز کی قطار ہے، کراچی میں پرانی بلڈنگز کی تعداد ہزاروں میں ہے، آگ بجھانے کی سہولت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرانی بلڈنگز میں لوگوں کے گھر ہیں، مارکیٹ بنی ہوئی ہیں، پورے پاکستان میں یہی حالات ہیں، آگ بجھانے کے آلات عمارتوں میں نہیں، انکوائری رپورٹ میں آجائے گا آگ بجھانے کے لیے عملہ کتنی دیر میں پہنچا۔