تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ ایک اندازہ ہے کہ فی دکان میں پچیس سے تیس لاکھ کا سامان تھا اور مجموعی طور پر تین ارب سے زائد کا سامان جل کر بھسم ہوا ہے۔
عتیق میر نے بتایا کہ تاجروں نے عید کے لیے سامان خریدا تھا۔
کراچی: فائر فائٹر 24 گھنٹے بعد گل پلازا میں داخل، محدود سرچ آپریشن
سی ای او ریسکیو عابد جلالانی کا کہنا ہے کہ متاثر عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے، عمارت کے عقبی حصے پہلے گر چکے تھے، اگلا حصہ ابھی گرا ہے۔
ایک اور تاجر مزمل نے کہا کہ اس سانحے میں لوگوں کا کروڑوں اربوں کا مال ضائع ہوچکا ہے، حکومت ان کا ساتھ دے۔
واضح ریے کہ گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کو لگے چھبیس گھنٹے گزر چکے ہیں، مگر تاحال ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوا۔
حادثے میں اب تک چھ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ متعدد افراد کے عمارت میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے صورت حال پر بات کی ہے، جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔